Tuesday, 10 October 2017

October 10, 2017
2
 منفرد خوشبو، کھلتے رنگ کے میٹھے گودے والے پھل پپیتے کو مشہور مہم جو کرسٹوفر کولمبس نے 'فرشتوں کے پھل' نام دیا تھا اور اگر پپیتے کی غذائی اہمیت پر نظر دوڑائی جائے تو یہ نام درست بھی لگتا ہے۔پپیتا فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کو انگریزی میں پپایا کہتے ہیں۔ماضی میں کمیاب اور نایاب سمجھا جانے والا پھل پپیتا اب دنیا کے ہر کونے میں تقریباً سارا سال ہی دستیاب ہوتا ہے۔پپیتے کے پھل کو کچا اور پکا دونوں صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہ دونوں ہی صورتوں میں انسانی صحت کے لیے بیش بہا فوائد کا حامل ہے۔

وٹامن اے، وٹامن سی اور بے شمار معدنیات سے بھرے اس پھل کی تھوڑی سے مقدار ہی انسانی جسم کو درکار وٹامن سی کی روزمرہ مقدار کو پورا کرسکتی ہے۔سوڈیئم، کیلوریز اور اسٹارچ کی کم مقدار کے باعث اس پھل کے اور بھی متعدد فوائد ہیں۔پپیتے میں موجود خصوصی خامرے  'پیپین' کی موجودگی کی وجہ سے اسے پروٹین کے ہاضمے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔کیمیائی عنصر 'لائکوپین' کی موجودگی کی وجہ سے پپیتے کو کینسر کے خلاف مزاحمت فراہم کرنے میں بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

لائکوپین جسم میں پروسٹیٹ، پھیپھڑوں، لبلبے، معدے کی نالی، بریسٹ اور معدے کے کینسر کو پھیلنے سے روکتا ہے۔پپیتے میں موجود کیروٹینوائڈز آنکھوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پپیتا کھانے والے افراد کی آنکھیں بڑھتی عمر کے ساتھ کمزور ہونے سے واضح حد تک محفوظ رہتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس پھل اور اس کے بیج پیٹ میں موجود کیڑوں کے خلاف حیرت انگیز طور پر کام کرتے ہیں۔بیٹا کیروٹین اور لائیکوپین سے بھرپور پپیتا انسانی جسم کے سب سے بڑے اور اہم عضو 'جلد' کے لیے بھی یکساں مفید ہے۔

پپیتے کو نہ صرف کھانے سے بہت سے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں بلکہ جلد پر لگا کر بھی اس سے مستفید ہوا جاسکتا ہے۔پپیتے کا رس سورج کی شعاعوں سے متاثرہ جلد کو ٹھنڈا کرنے اور نئے خلیات بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جبکہ کچے پپیتے کا گودا جلد کی بہترین صفائی یعنی ایکسفولی ایشن  کرسکتا ہے۔مختلف خامروں اور کیمیائی عناصر کی موجودگی کی وجہ سے پپیتا دل کے دورے کے خدشے میں بھی واضح کمی لانے کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو پپیتے کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں، اس کے علاوہ پپیتے کے بیجوں کا استعمال کرتے ہوئے بھی خاص احتیاط برتنی چاہیئے کیونکہ ان کا ضرورت سے زائد استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔اقتباس از پپیتا باغ کی سیر۔ طارق طفیل
پپیتا گرم مرطوب علاقوں کا پودا ہے مگر اب اس کی بہترین ہائیبرڈ اقسام نرسریز میں دستیاب ہیں اور پاکستان کے تقریباً تمام تر علاقوں میں کامیابی سے اُگایا جاتا ہے۔ آج کل ڈینگی کی وباء عام ہے، اس کے پھل کا گودا یا جوس ڈینگی بخار میں شفاء بخشتا ہے، ڈینگی بخار میں مریض کے خون میں سفید سیلز ختم ہوجاتے ہیں جس میں پپیتا کا استعمال نہایت مفیدہوتاہے۔
پپیتا کی کاشت و نگہداشت کیلئے درج ذیل لنک کو فالو کریں۔
http://www.tropicalpermaculture.com/growing-papaya.html 

2 comments: