اس کمزور سرحد کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک کے عوام خون کے دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لات کسی سے پوشیدہ نہیں، سرحد کے اُس پا...
اس کمزور سرحد کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک کے عوام خون کے دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لات کسی سے پوشیدہ نہیں، سرحد کے اُس پا...
پیپلز پارٹی کی علالت۔۔۔۔ تحریر پروفیسر (ر) سیف اللہ خان، مینگورہ سوات
وطن عزیز میں حکومتی اداروں کی کمزور بلکہ غیر ذمہ دارانہ کردار نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ اب فوجی جوانوں کو سویلین اداروں کی ذمہ داریاں ن...
سوات (بونیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان) اور دیر کے عوام ریاستی ادوار میں سو فیصد محصولات اداکرتے تھے۔ سوات کی پوری کی پوری ترقی سوات کے عوا...
اگر "سعودی" دوست ہے ملک ہے تو "یمن" بھی دشمن نہیں، اور پھر ہمیں چند اور تلخ حقائق سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہئے جن میں ب...
حکومت نے ٹیکس (کسٹمز ڈیوٹی) کے دائرہ کو پاٹا اور فاٹا تک بڑھانے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ ایک انتہائی مستحسن فیصلہ ہے بشرطیکہ یہ عدل و انصاف کے ...
قائد اعظم کون تھے؟ کے عنوان سے جناب پروفیسر (ر) سیف اللہ خان صاحب کا ایک جامع کالم جو کہ روزنامہ "چاند" سوات اور زما سوات ڈاٹ...
یہ مضامین روزنامہ "چاند" سوات اور نیوز ویب سائٹ زما سوات ڈاٹ کام پر شائع ہوچکے ہیں۔ واضح طور پر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کری...
پروفیسر (ر) سیف اللہ خان کے حالیہ شائع شدہ مضامین پیش خدمت ہیں۔ یہ مضامین روزنامہ "چاند" سوات اور نیوز ویب سائٹ زما سوات ڈاٹ ...
پروفیسر (ر) سیف اللہ خان کے حالیہ شائع شدہ مضامین پیش خدمت ہیں۔ یہ مضامین روزنامہ "چاند" سوات اور نیوز ویب سائٹ زما سوات ڈاٹ کا...
طالبانائزیشن کے بعد سوات میں صحافت کی ارتقاء کے موضوع پر جناب فضل ربی راہی صاحب کی ایک عمدہ تحریر پیش خدمت ہے، جس میں اُنہوں نے سوات میں ...
واپڈا کے اربوں کے بقایاجات ، سندھ سرکار کی غلطی اور یہ ٹیکس کس نے کیسے لگایا ؟ کے عنوانات سے پروفیسر (ر) سیف اللہ خان(مینگورہ، سوات) کے...
تحریر:پروفیسر سیف اللہ خان ( سوات)۔ حال ہی میں خٹک سرکار نے ایک بے نظیر فیصلہ کیا ہے جس کے رو سے کلرکوں اور اسٹینو گرافروں کو اسکیل نم...
تحریر : پروفیسر (ریٹائرڈ) سیف اللہ خان چودہ اگست 1947ء کو برصغیر میں دو آزاد ممالک اس انداز سے قائم ہوئے کہ مشرق اور مغرب میں ایک ہز...
نریندر دارمودر داس وہ شخص ہے جس نے اپنے گھر کے باہر لکھا تھا" كُتا اندر آسكتا ہے ليكن پاكستانى نہيں" نريندر مودى كا اس فقرے كو...
صوبائی سرکار کا ادھورا فیصلہ صدا بہ صحرا چند ماہ قبل ہائی کورٹ نے سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے کمپیوٹر آپریٹرز کو گریڈ سولہ دینے ک...
صدا بہ صحرا جیو کو جینے دو، اسے بولنے دو، اس سے سیکھو۔ لیکن جیو اور جنگ گروپ بھی اس ذمہ داری کو نہ بھولے کہ غیر محتاط الفاظ غیر معمول...
جنت نظیر سوات وادئی سوات کے لوگوں کے بارے میں جناب فضل ربی راہی کا ایک مختصر تعارفی کالم جو روزنامہ چاند سوات میں پبلش ہوچکا ہے، پیش...
صدا بہ صحرا گورنرصاحب کی معلومات بہ ہرحال ہم سے زیادہ ہیں۔ وہ بہتر جانتے ہیں کہ لاقانونیت اور انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے پاٹا کی عوام ...
محکمہ تعلیم خصوصی طور پر ایک برا اور مظلوم تجربہ گاہ چلا آرہا ہے۔ اگر صرف گزشتہ تیس سال کا ریکارڈ دیکھا جائے تو اس میں درجنوں سے زیائد پ...