Thursday, 6 October 2016

October 06, 2016

In Khyber Pakhtunkhwa "Mushrooms Span" can be obtained from NTFP Department, Shami Road Peshawar or from KP Agricultural Univeristy Peshawar's Pathology Department.
"ماہ اکتوبر" پاکستان میں مشروم کی کاشت کے سیزن کا آغاز
مشروم کی کاشت کے چھ بنیادی مراحل
                                مشروم جسے اردو میں کھمبی اور پنجابی میں کھمب کہتے ہیں فنجائی کی ایک خاص قسم ہے جسے عام طور پر سورج کی غیر موجودگی میں خاص صاف ستھرے ماحول میں فصلوں کی باقیات مثلاً گندم کا بھوسہ وغیرہ اور مختلف نامیاتی مادوں مثلاً مرغیوں کی گھاد وغیرہ  ملے ہوئے کمپوسٹ میں اگایا جاتا ہے۔
                                یوں تو آج کے دور میں مشروم کی بہت سی اقسام تیار کر لی گئی ہیں جو سال کے مختلف حصوں میں مختلف درجہ حرارت پر اگائی جا سکتی ہیں۔ تا ہم وطن عزیز پاکستان میں عام طور پر اگائی جانے والی مشرومز یعنی بٹن مشروم اور آئسٹر مشروم کی کاشت ماہ اکتوبر سے شروع ہو جاتی ہے۔
                                مشروم کی کاشت کے لیے  چار بنیادی اصول ہیں جن کو مد نظر رکھنا نہایت اہم سمجھا جاتا ہے ان کی تفصیل درج ذیل ہے
1.      خاص درجہ حرارت  (25-15) سینٹی گریڈ
2.      ہوا میں موجود نمی کا تناسب(٪95-٪70)
3.      تازہ ہوا کی فراہمی
4.      روشنی
                                پاکستان کے میدانی علاقوں میں ماہ اکتوبر سے مارچ تک ضروری درجہ حرارت قدرتی طور پر میسر رہتا ہے اس لیے اس سیزن میں مشروم اگانا انتہائی آسان خیال کیا جاتا ہے۔ اب ہم مشروم کی کاشت کے لیے جن چھ مراحل سے گذرنا پڑتا ہے ان کا ذکر کرتے ہیں۔
1.   کمپوسٹ کی تیاری
2.   کمپوسٹ کو پاسچرائز کرنا
3.   بیج ملانا(Spawning)
4.   مٹی کی تہ چڑھانا (Casing)
5.      پن ہیڈز کا بننا
6.      فصل کا حصول
1۔ کمپوسٹ کی تیاری
                                مصنوعی کمپوسٹ فصلوں کے بیکار مادوں یعنی بھوسہ وغیرہ میں کچھ نامیاتی اجرا شامل کرنے سے تیار کیا جاتا ہے۔ کمپوسٹ مشروم کی کاشت میں ضروری غذائی اجزا فراہم کرتا ہے۔ مختلف اقسام کی مشرومز کے لیے مختلف طریقوں سے کمپوسٹ تیار کیا جاتا ہے۔
1.1آئسٹر مشروم کے کمپوسٹ کی تیاری
                                آئسٹر مشروم کے کمپوسٹ بنانے کا طریقہ انتہائی آسان اور سادہ ہے۔ اس کے لیے 100 کلو گرام گندم کے بھوسہ میں 2 کلو چونا اور 5 کلو چوکر ملا کر سارے مواد کو اچھی طرح گیلا کر کے ڈھیر بنا دیا جاتا ہے۔ کمپوسٹ میں  پانی کی مقدار ہاتھ میں دبانے کے طریقہ سے ٹیسٹ کی جا سکتی ہے۔ بھوسے کو مُٹھی میں لے کر زور سے دبانے پر ایک یا دو قطرے ہی نکلنے چاہیں۔ اگر پانی کے قطرےزیادہ نکلیں تو کمپوسٹ کو کھلی جگہ پر پھیلا کر خشک کر لیا جاتا ہے ا ور پانی کم ہونے پر مزید ملا دیا جاتا ہے۔
                                تین دن کے بعد بنائے گئے ڈھیر کو کھولا جاتا ہے اگر کہیں پانی کی مقدار کم لگے تو وہا ں اور پانی چھڑک کر پانی کا تناسب 70-60 فیصد تک کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کمپوسٹ کو پولی تھین کے  تھیلوں جنہیں شیشہ پلاسٹک بھی کہتے ہیں میں بھر لیا جاتا ہے۔
1.2بٹن مشروم کے کمپوسٹ کی تیاری
                                بٹن مشروم کے کمپوسٹ بنانے کا طریقہ تھوڑا پیچیدہ  اور وقت طلب ہے ۔ اس کے لیے درکار اجرا درج ذیل ہیں۔
                                گندم کا بھوسہـــــــــــــــــــــ1000 کلو گرام
                                مرغیوں کی کھادــــــــــــ600-500 کلو گرام
                                جپسمــــــــــــــــــــــــ70-60کلو گرام
                                یوریاــــــــــــــــــــــــ10-7 کلو گرام
                                سب سے پہلے گندم کے بھوسہ کو فرش پر بچھا لیں اور 2،3 روز کے لیے پانی کا چھڑکاؤ کرتے رہیں جب وہ بھوسہ اچھی طرح نرم اور گیلا ہو جائے تو اس میں مرغیوں کی کھاد اور یوریا ملا کر ایک میٹر چوڑا اور اتنا ہی اونچا ڈھیر بنا دیں۔ڈھیر بنانے کے چھ روز بعد اس کو الٹ پلٹ کیا جاتا ہے۔ ڈھیر کے چاروں طرف سے ایک فٹ گہری کمپوسٹ الگ کریں اگر الگ کی گئی کمپوسٹ خشت ہو گئی ہو تو اس میں اِس قدر پانی ملائیں کہ نمی کا تناسب 60 سے 70 فیصد تک ہو جائے۔بقیہ ڈھیر میں نصف اسیِ طرح اطراف سے علیحدہ کر کے اکٹھا کر لیں۔ تیسرا حصہ خود بخود بچ جائے گا۔ اب تینوں تہوں کا دوبارہ ڈھیر اس طرح بنائیں کہ درمیان والا حصہ سب سے نیچے، اوپر والا درمیان میں اور نیچے والا سب سے اوپر آ جائے۔ بعد ازاں ہر تین روز بعد یہ عمل دہرایا جاتا ہے۔ دورانِ عمل تیرہویں روز اس میں جپسم ملا دیا جاتا ہے اس طرح 28 روز بعد کمپوسٹ مکمل تیار ہو جاتا ہے۔
                                کمپوسٹ کی تیاری پر یہ سیاہی مائل   ہو  ، اس میں نمی کا تناسب 70 فیصد اور اس کی پی ایچ 7 سے 5.7 ہونی چاہیے۔ کمپوسٹ میں امونیا گیس کی بو بالکل نہیں ہونی چاہیے اور نائٹروجن کی مقدار 7.1 ہونی چاہیے۔
2۔ پاسچرائزیشن
                                کمپوسٹ تیار کرنے کے بعد اسے شیشہ پلاسٹک کے تھیلوں میں بھر کر بھاپ دی جاتی ہے۔ اس عمل کے لیے لوہے کے خالی ڈرم کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ڈرم میں 6 انچ تک پانی بھر دیا جاتا ہے۔ پانی کے اوپر ایک سٹینڈ پر کمپوسٹ سے بھرے تھیلے رکھ کر ڈرم کا منہ اوپر سے بند کر دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے2سے 3 ڈرم کے نیچے آگ جلانے سے جراثیم سے پاک کرنے کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔
3۔سپان یا بیج ملانا
                                سپان یا مشروم کا بیج لیبارٹریز میں تیار ہوتا ہے۔ کمپوسٹ کے ٹھنڈا ہونے پر بحساب وزن 7-5 فیصد سپان اس میں ملا دیا جاتا ہے۔ سپان ملانے کے بعدکمپوسٹ کو کمروں میں رکھ  دیا جاتا ہے اور درجہ حرارت 25-20 سینٹی گریڈ برقرار رکھا جاتا ہے جبکہ نمی کا تناست 75-70 فیصد رکھا جاتا ہے۔ تقریباً 21 دنوں کے بعد سپان کے پھیلنے کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔


4۔ مٹی کی تہہ چڑہانا(کیسنگ)
                                سپان ملانے کے 21 دن بعد جب بیج پھیلنے کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو کمپوسٹ پر مٹی کی ایک تہہ چڑھا دی جاتی ہے۔ اس عمل کو کیسنگ کہتے ہیں۔ ایک خاص قسم کی مٹی جسے پِیٹ (Peat) کہتے ہیں میں نمی کا تناسب 60 سے 70 فیصد تک بنا کر اس کی 1.5انچ موٹی ایک تہہ کمپوسٹ پر جما دی جاتی ہے۔ اس عمل سے پہلے  پِیٹ کو جراثیم سے پاک کر لیا جاتا ہے۔
5۔ پن ہیڈز کا بننا
                                کیسنگ کے بعد 8 سے 10 روز تک کمپوسٹ کا درجہ حرارت 22 سینٹی گریڈ برقرار رکھا جاتا ہے۔ ٹھیک 10 روز بعد درجہ حرارت 16 سینٹی گریڈ تک کم کر دیا جاتا ہے اور تازہ ہوا کی آمدورفت یقینی بنائی جاتی ہے۔ اس وقت ہوا میں نمی کا تناسب 90 سے 95 فیصد تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجہ میں پِیٹ کی سطح پر چھوٹے چھوٹے پن ہیڈز بن جاتے ہیں جو اگلے چند ہی روز میں بڑے ہو کر مشروم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
6۔ فصل کا حصول
                                ایک دفعہ مشروم کا بیج ڈالنے کے بعد  4 سے 5 مرتبہ فصل نکلتی ہے۔ ہر فصل کے بعد 8 سے 10 روز کا وقفہ آتا ہے۔ مشروم جب مناسب سائز اختیار کر جائے تو اسے ہاتھ سے مروڑ کر الگ کر لیا جاتا ہے۔ مشروم حاصل کرنے کے بعد اگر کہیں گڑھے بن جائیں تو انہیں دوبارہ پیٹ سے بھر دیا جاتا ہے اور پانی کا مناسب چھڑکاؤ کر دیا جاتا ہے۔
تازہ مشروم کو پیک کرنے کے بعد 5-3 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر کچھ دیر کے لیےٹھنڈا کیا جاتا ہے جو اس کی شیلف لائف کو بڑھا دیتا ہے۔
تحریر و تحقیق
ایم ایس  سی (آنرز) ہارٹیکلچر
Consultant at Healthy Mashrooms
0300-7749169


0 comments:

Post a Comment