Thursday, 8 October 2015

October 08, 2015
9

اگر میں کہوں کہ پھول پودوں اور فطرت سے محبت مجھے میراث میں ملی ہے تو غلط نہ ہوگااور جب آپ کو دوست بھی ایک جیسے شوق کے مل جاتے ہیں تو پھر نشہ دو آتشہ ہوجاتا ہے۔ مصطفی ملک بھائی اور طارق تنویر بھائی کی حوصلہ افزائی نے مجھے کچھ اور پودوں کے بارے میں لکھنے پر آمادہ کیا۔ اس سے پہلے سوات میں موجود بلیک بیری "کروڑہ"، جاپانی پودوں کے آرٹ "بونسائی" اور لیونگ وال "زندہ دیواروں" پر کچھ لکھا تھا۔ آج دل کر رہا ہے کہ آنے والے جھاڑے میں خزان کے موسم میں باغوں میں بہار بکھیرنے والے "گیندے کے پھول" کے بارے میں کچھ لکھوں۔
جب شدید حبس اور گرمی کے بعد موسم معتدل ہونا شروع ہوجاتا ہے جھاڑوں کی آمد آمدہوتی ہے تو ایسے موسم میں باغ باغیچوں لانوں اور کیاریوں کی رونق بڑھانے گیندہ پھول آجاتا ہے۔ جو سرمئی شام کے اندھیروں میں خود کو روشن رکھ کر دھندمیں لپٹی صبح و شام کو ایک منفرد خوشبو سے معطر کرکے آپ کو تازگی کا خوشگوار احساس فراہم کرتا ہے۔آج کل گیندہ پھول یعنیMarigoldکا سیزن شروع ہوچکا ہے۔ 
گیندے کا پھول نہ صرف ہمارے چمن کو خوبصورتی بخشتا ہے بلکہ یہ مشرقی روایات، تہذیب و تمدن میں بھی ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ غمی خوشی ہر موقع پر اس پھول کو عقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ شادی، مایوں، رسم حنا، بارات، رخصتی، سیج ، سٹیج، حجلہ عروسی، گھر،درودیوار سب کی رونق بڑھانے کیلئے گیندے کے خوبصورت وخوش رنگ پھول استعمال ہوتے ہیں۔ خواتین شادی بیاہ ، مہندی مایوں اور دیگر تقریبات میں ان پھولوں سے ہارسنگھار کرتی ہیں اور بطور زیور بھی استعمال کرتی ہیں۔ خاص کر مایوں اور مہندی کے موقع پر گیندے کے پھول کے ہار، بالیاں، گہنے دلہن کو پہنائے جاتے ہیں۔ اگر غم کی بات کی جائے تو جنازوں اور قبروں پر بھی اس کو نچھاور کیا جاتا ہے، ہندو اور بدھ مت مذاہب میں اس پھول کو ایک خاص مقدس مقام حاصل ہے۔اُردو کا ایک خوبصورت گانا "سسرال گیندہ پھول"تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا۔ اس پھول کے کئی طبی خواص بھی ہیں۔ جہاں یہ ہماری تقریبات کا اہم جزو ہے وہاں کئی ایک ادویات کا بھی لازمی جزو ہے۔ گیندہ پھول ایک بہترین اینٹی بایوٹک پودا ہے ، جلدی اامراض کیلئے اس کے اجزاء بہترین تصور کئے جاتے ہیں۔ گیندہ پھول میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دیگر خواص کے ساتھ ساتھ وٹامن سی کی بھرپور مقدار بھی رکھی ہے۔ یہ پھول باریک وپتلی خون کی رگوں کی نشونما کیلئے بھی اہم ہے، اینٹی انفلی میٹری خصوصیات کی وجہ سے ایکزیما اور کئی ایک ایلرجیز میں بھی کارگر ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کی وجہ سے جلد ، کینسر اور دل جیسی موزی امراض کی ادویات میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔
گیندے کے پودے میں ایک مخصوص قسم کی خوشبو پائی جاتی ہے اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خوشبو مچھروں کو بھگانے کیلئے کارگر ہوسکتی ہے۔ لانز، صحن، اور دیگر اُٹھنے بیٹھنے والی جگہوں پر ان پودوں کی موجودگی مچھروں کو بھگانے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔
گیندے کا پودا نرسریوں میں آسانی سے دستیاب ہے جبکہ اس کے بیجوں سے بھی اس کو بڑی آسانی سے اُگایا جاسکتا ہے۔ اس کے بیج وزن میں انتہائی ہلکے اور لمبوترے ہوتے ہیں، ان سے بھی مخصوص قسم کی خوشبو ٓآتی ہے جو اس کی پہچان ہے۔ بیج کسی بھی زرعی ؍ پودوں کی دکان سے آسانی سے مل جاتے ہیں۔ گملوں، کنٹینرز یا زمین پر کیاریوں کی مٹی نرم کرکے مناسب فاصلے پر گیندے کے پھول کے بیج بکھیر دیں اور اُوپر سے ہلکی مٹی ڈال دیں ۔ زیادہ گہرائی میں بیج نہ لگائی اور نہ ہی اُوپر سے زیادہ مٹی کی تہہ لگائیں۔ مٹی میں اگر قدرتی کھاد کی مناسب مقدار پہلے سے ڈال دی جائے تو پودے کی نشوونما بہتر انداز سے ہوگی اور پھول بھی خوب صحتمند ہونگے جو اگلے نسل کی بیج کے صحت پر بھی اثرانداز ہوگی۔میدانی علاقوں میں اس کے بیج اگست کے اواخر میں لگائے جاتے ہیں اور ستمبر کے درمیان تک پنیری دوسری جگہ منتقل کرنے کے قابل ہوجاتی ہے۔ بیج لگانے کا سیزن مختلف علاقوں میں اگست، ستمبر کے درمیان مختلف ہوسکتا ہے۔ آج کل پنیری دستیاب ہے۔ 

گیندے کا پودا نہایت ہی ارزاں قیمت ہے اور تقریباً پانچ دس روپے میں مل جاتا ہے اور جو پودے گملوں میں ہوتے ہیں اُن کی قیمت تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ تقریباً سارا سال سرسبز رہتا ہے اور پھول بھی لگتے رہتے ہیں ۔ اس کے پودے کی اُونچائی چھ انچ اور چار فٹ کے درمیان ہوسکتی ہے جبکہ پھیلاو ۳ فٹ سے ۶فٹ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کا پودا جھاڑی نما ہوتا ، پتے نوکدار اورنازک ہوتے ہیں۔ پتوں کا رنگ گہرا سبز ہوتاہے۔ پھولوں کا رنگ عموماً زرد ہوتا ہے جبکہ نارنجی، ہلکے زرد، گہرے زرد ،میرون، سرخی مائل زرد کے حسین امتزاج میں پائے جاتے ہیں۔ پھولوں کے سائز بھی مختلف ہوتے ہیں اور پھولوں کی پتیاں تہہ دار بھی ہوتی ہیں اور سنگل لیئر بھی ہوتی ہیں۔ یہ تیزی سے بڑھوتری کرنے والے پودوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ و قدرتی طورپر پائے جانے والے پودوں کا سائز بڑا جبکے پھولوں کا سائز چھوٹا ہوتا ہے جبکہ ہائبرڈ کوالٹی کے پودوں کا سائز چھوٹا اور پھولوں کا سائز بڑا ہوتا ہے۔ اُردو میں اُن کو گیندہ پھول، پشاور کے علاقے میں زیڑگُلے، سوات اور ملحقہ علاقوں میں "ہمیشہ" یعنی صدا بہار کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ انگریزی نام میری گولڈ اور سائنسی نام ٹگیٹ ایس پی ہے۔ سوات کے پرانے گھروں کی منڈیروں پر گملوں، ناکارہ برتنوں اور دیگر کنٹینرز میں تلسی (بیسل) کے ساتھ گیندے کا پودا عام طور پر لگایا جاتاتھا۔ اب پکی تعمیرات اور باغبانی کے شوق میں کمی کی وجہ سے منڈیروں پر پودے لگانے کا رواج بھی کم بلکہ ختم ہوگیا ہے۔ نرسریز میں گیندے کے پھول کی اب ہائبرڈ اقسام دستیاب ہیں جن میں پودے کا سائز کم ہوتا ہے ، اُس پر پھول بڑے اور تعداد میں زیادہ لگتے ہیں۔ گھروں کے لانز، پارکس، تفریحی مقامات اور گملوں میں لگائے جاتے ہیں جو گہرے سبز رنگ پر خوبصورت زرد رنگ کے پھول بہار بکھیر رہے ہوتے ہیں وہ ہی گیندے کے پھول ہیں۔ گیندے کے پھول کی طلب کی وجہ سے اس کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کی جاتی ہے۔ کاشتکاروں کیلئے یہ آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے پھول جلدی مرجھاتے نہیں ، اس وجہ سے تادیر تازہ رہتے ہیں۔ اس کی فصل تقریباً سارا سال لگی رہتی ہے صرف شدید موسم کے کچھ دنوں میں اس کے پھول کم ہوجاتے ہیں باقی سارا سال اس کے پودے پھول دیتے ہیں ۔ جن کو باغبان؍کاشتکار ایک یا دو دن کے وقفے سے اکٹھے کرکے بڑے بڑے گٹھوں کی شکل میں بازار میں فروخت کیلئے لاتے ہیں اور پھر دوکاندار ان کے خوبصورت ہار اور لڑیاں بنا کر بیچتے ہیں جو ہماری تقریبات کوقدرتی خوبصورتی بخشتے ہیں۔ 
in weekly "The Veterinary News & Views" Faisalabad 2nd to 7th November 2015

How to Grow Marigold Flower in Pakistan. Marigold varieties and its benefits. 

How to Grow "Marigold"
Daily Azadi Swat 29.10.2015

9 comments:

  1. نعیم بھائی کمال کر دیا آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں ناں خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماشاء اللہ خوبصورت رنگ پکڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی معلوماتی تحریر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس میرا مقصد پورا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ دوستوں کے اندر پودوں سے محبت کی امنگ پیدا ہو رہی ہے ۔۔۔۔ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھے (آمین)

    ReplyDelete
  2. انشاء اللہ آپ کی رہنمائی حاصل رہی تو اپنی سی کوشش کرتے رہیں گے۔ یہ تو اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہیں اور دنیا کی خوبصورتی جن سے انسانوں کو راحت وتسکین ملتی ہے۔ باقی آپ قدم بڑھائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

    ReplyDelete
  3. میرے بچپن میں روزنامہ مشرق نے اسی قسم کی ایک سیریز شروع کی تھی جس میں پھول کے تعارف سے لے کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں اس کی کاشت کے طریقوں اور دیکھ بھال کے متعلق ایک یا دو صفھے ہوتے تھے ۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ کسی ہاڑٹیکلچرسٹ سے نیاز مندی حاصل کریں تو مضامیں میں بھرپور رنگ پیدا ہو جائے گا ۔ جیسے شرق پور کے ایک بلاگر قمر مہدی نے ان مضامین میں پیدا کیا ہے
    http://mehdisq.wordpress.com/category/environment/indigenous-plants/

    ReplyDelete
  4. ریاض بھائی، لنک بھیجنے اور مشورے کا بہت بہت شکریہ۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا دوست مل جائے جن سے ہم بھرپور معلومات حاصل کر سکیں۔ انشاء اللہ قمر مہدی صاحب سے جلد از جلد رابطہ کروں گا۔ یہ جو بھی تحریر کیا ہے اپنی معلومات کے مطابق کیا ہے۔ آپ کی مدد اور رہنمائی کی ہر وقت ضرورت ہوگی۔

    ReplyDelete
  5. قمر مہدی محض ایک بلاگر ہیں ہارٹیکلچرسٹ نہیں ہیں

    ReplyDelete
  6. بہتر سر جی، میری طارق تنویر صاحب سے اس بارے میں بات ہوچکی ہےجو کہ قادربخش فارمز کے مالک ہیں اور اس فیلڈ میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ اُن کی ویب سائٹ درج ذیل ہے:
    www.qbfarms.com

    ReplyDelete
  7. bhai naeem bhot alla dil khush kar dye ap na

    ReplyDelete
  8. bhai naeem bhot alla dil khush kar dye ap na

    ReplyDelete
  9. bhai naeem bhot alla dil khush kar dye ap na

    ReplyDelete