Friday, 22 November 2013

November 22, 2013
6
سنگھاڑے سے پہلی مرتبہ ہمارا تعارف اُس وقت ہوا تھا جب بچپن میں والد صاحب راولپنڈی سے یہ عجیب و غریب پھل لائے تھے۔ عجیب و غریب اس لئے کہ اس کی نہ صرف شکل عجیب ہے بلکہ ذائقہ بھی۔ کل پرسوں جب ایک دوست لاہور گیا ہوا تھا تو اُس نے بھی وہاں پر سنگھاڑے پہلی بار دیکھے اور مجھے فون پر بتایا اس بارے۔ اُس نے تصویر بھی بھیجی جو میں یہاں شیئر کررہا ہوں۔ تصویر دیکھ کر بچپن میں کھائے ہوئے سنگھاڑوں کا عجیب سا ذائقہ یاد آیا اور اُس سے فرمائش بھی کی کہ آتےہوئے لے آئے۔ 
پنجاب اور دیگر علاقوں کے لوگوں کے لئے یہ پھل نیا نہیں ہوگا مگر شمالی علاقوں کے لوگ کم ہی اس کو جانتے ہونگے۔ یہ پھل تکون نما ہوتا ہے جس پر چھوٹے چھوٹے سینگھ سے ہوتے ہیں۔ رنگ میں گہرا کالا بھورا ہوتا ہےاور گودا سفید رنگ کا۔ اس کو انگریزی میں "واٹر چیسٹ نٹ" کہتے ہیں۔ اس کے اندر کے گودے کو کھایا جاتا ہے۔ یہ آلو کی طرح اُگتا ہے۔  یہ پھل جھیلوں، پانی کے جوہڑوں اور کیچڑ میں اُگتا ہے۔ اس کا پودا کنول کے پودے سے مشابہت رکھتا ہے اور پتے بھی اُسی طرح کے ہوتے ہیں۔بہت سارے طبعی خواص کا حامل یہ پودا نومبر کے آخری ہفتوں سے مارکیٹ میں دستیاب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کو اُبال کر یا کچا بھی کھایا جاسکتا ہے۔ اس کو پیس کر آٹا بنایاجاتا ہے۔
انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سے کئی ایک مضامین سامنے آئے جن میں سے"اُردو ڈائجسٹ" کا مضمون سب سے جامع ہے۔ لنک یہاں پیش خدمت ہے، یہ مضمون "اُوئے سنگھاڑا" کے عنوان کے تحت شائع کیا گیا ہے۔  "ہماری ویب" نے اس کو "بے پناہ خصوصیات کا حامل پھل سنگھاڑا" کے عنوان سےتھوڑی بہت ترمیم کرکے شائع کیا ہے مگر کوئی حوالہ نہیں دیا اس لئے معلوم نہیں ہوپارہا کہ اصل تحریر کس کی ہے مگر زیادہ قوی امکان یہ ہے کہ یہ "اُردو ڈائجسٹ" کی ہی ملکیت ہے کیونکہ ابن قادر صاحب کے نام سے طب و صحت کے سیکشن میں شائع ہوچکا ہے۔ میرے خیال میں اگر دونوں تحاریر کو پڑھ لیا جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ اس کے طبعی فوائد اور استعمال کے بارے میں کافی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
ان میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اور کاپر بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اور خستہ ہوتا ہے جب کہ اُبلا ہوا سنگھاڑا اور بھی زیادہ مزیدار اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔ سنگھاڑے کا ذائقہ بالکل منفرد ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے بھوک میںبھی اضافہ ہوتا ہے۔ کچھ ممالک میں سنگھاڑے کو سلاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ سنگھاڑے میں موجود کیلوریز دوسری سبزپتوں والی سبزیوں کی نسبت کم ہوتی ہیں تاہم اس میں موجود آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک اور فائبر کی مقدار اس کے استعمال میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔
سنگھاڑے کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہوتی اور  جسم میں خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد عورت کے لیے سنگھاڑے کے آٹے کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ سنگھاڑے کے آٹے کو گوندھ کر جسم کی سوجھی ہوئی جگہ پر لیپ کرنے سے تکلیف رفع ہوتی ہے۔ سنگھاڑے کے گودے سے بنایا ہوا سفوف کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔ پانی میں ابال کر پینے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ معدے اور انتڑیوں کے زخم کے لیے مقوی ہے۔ سنگھاڑے کے استعمال سے بڑھاپے میں یاداشت کم ہونے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔
اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال مضر صحت ہوتا ہے اس لیے سنگھاڑے کا بھی مناسب استعمال کیا جانا چاہیے۔سنگھاڑے کے زیادہ استعمال سے گردے اور پتے میں پتھری بننے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کمزور مردوں کو سنگھاڑے کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ خواتین کے ماہانہ نظام کے لیے بھی مفید ہیں۔سنگھاڑے کے سفوف میں دودھ یا دہی ملا کر استعمال کرنے سے پیچش سے آرام آتا ہے۔ ان کے استعمال سے دانت چمکدار اور مسوڑھے صحت مند ہوتے ہیں۔
- See more at: http://urdudigest.pk/2013/01/oye-sanghare#sthash.cigN7QNs.dpuf
 طبعی فوائد
اُوئے سنگھاڑا۔۔۔۔(اُردو ڈائجسٹ):۔۔۔۔۔۔۔۔ ان میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اور کاپر بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اور خستہ ہوتا ہے جب کہ اُبلا ہوا سنگھاڑا اور بھی زیادہ مزیدار اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔ سنگھاڑے کا ذائقہ بالکل منفرد ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے بھوک میںبھی اضافہ ہوتا ہے۔ کچھ ممالک میں سنگھاڑے کو سلاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ سنگھاڑے میں موجود کیلوریز دوسری سبزپتوں والی سبزیوں کی نسبت کم ہوتی ہیں تاہم اس میں موجود آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک اور فائبر کی مقدار اس کے استعمال میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔
سنگھاڑے کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہوتی اور جسم میں خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد عورت کے لیے سنگھاڑے کے آٹے کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ سنگھاڑے کے آٹے کو گوندھ کر جسم کی سوجھی ہوئی جگہ پر لیپ کرنے سے تکلیف رفع ہوتی ہے۔ سنگھاڑے کے گودے سے بنایا ہوا سفوف کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔ پانی میں ابال کر پینے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ معدے اور انتڑیوں کے زخم کے لیے مقوی ہے۔ سنگھاڑے کے استعمال سے بڑھاپے میں یاداشت کم ہونے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔
اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال مضر صحت ہوتا ہے اس لیے سنگھاڑے کا بھی مناسب استعمال کیا جانا چاہیے۔سنگھاڑے کے زیادہ استعمال سے گردے اور پتے میں پتھری بننے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کمزور مردوں کو سنگھاڑے کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ خواتین کے ماہانہ نظام کے لیے بھی مفید ہیں۔سنگھاڑے کے سفوف میں دودھ یا دہی ملا کر استعمال کرنے سے پیچش سے آرام آتا ہے۔ ان کے استعمال سے دانت چمکدار اور مسوڑھے صحت مند ہوتے ہیں۔
ان میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اور کاپر بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اور خستہ ہوتا ہے جب کہ اُبلا ہوا سنگھاڑا اور بھی زیادہ مزیدار اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔ سنگھاڑے کا ذائقہ بالکل منفرد ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے بھوک میںبھی اضافہ ہوتا ہے۔ کچھ ممالک میں سنگھاڑے کو سلاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ سنگھاڑے میں موجود کیلوریز دوسری سبزپتوں والی سبزیوں کی نسبت کم ہوتی ہیں تاہم اس میں موجود آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک اور فائبر کی مقدار اس کے استعمال میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔
سنگھاڑے کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہوتی اور  جسم میں خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد عورت کے لیے سنگھاڑے کے آٹے کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ سنگھاڑے کے آٹے کو گوندھ کر جسم کی سوجھی ہوئی جگہ پر لیپ کرنے سے تکلیف رفع ہوتی ہے۔ سنگھاڑے کے گودے سے بنایا ہوا سفوف کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔ پانی میں ابال کر پینے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ معدے اور انتڑیوں کے زخم کے لیے مقوی ہے۔ سنگھاڑے کے استعمال سے بڑھاپے میں یاداشت کم ہونے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔
اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال مضر صحت ہوتا ہے اس لیے سنگھاڑے کا بھی مناسب استعمال کیا جانا چاہیے۔سنگھاڑے کے زیادہ استعمال سے گردے اور پتے میں پتھری بننے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کمزور مردوں کو سنگھاڑے کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ خواتین کے ماہانہ نظام کے لیے بھی مفید ہیں۔سنگھاڑے کے سفوف میں دودھ یا دہی ملا کر استعمال کرنے سے پیچش سے آرام آتا ہے۔ ان کے استعمال سے دانت چمکدار اور مسوڑھے صحت مند ہوتے ہیں۔
- See more at: http://urdudigest.pk/2013/01/oye-sanghare#sthash.cigN7QNs.dpuf
ان میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اور کاپر بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اور خستہ ہوتا ہے جب کہ اُبلا ہوا سنگھاڑا اور بھی زیادہ مزیدار اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔ سنگھاڑے کا ذائقہ بالکل منفرد ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے بھوک میںبھی اضافہ ہوتا ہے۔ کچھ ممالک میں سنگھاڑے کو سلاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ سنگھاڑے میں موجود کیلوریز دوسری سبزپتوں والی سبزیوں کی نسبت کم ہوتی ہیں تاہم اس میں موجود آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک اور فائبر کی مقدار اس کے استعمال میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔
سنگھاڑے کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہوتی اور  جسم میں خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد عورت کے لیے سنگھاڑے کے آٹے کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ سنگھاڑے کے آٹے کو گوندھ کر جسم کی سوجھی ہوئی جگہ پر لیپ کرنے سے تکلیف رفع ہوتی ہے۔ سنگھاڑے کے گودے سے بنایا ہوا سفوف کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔ پانی میں ابال کر پینے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ معدے اور انتڑیوں کے زخم کے لیے مقوی ہے۔ سنگھاڑے کے استعمال سے بڑھاپے میں یاداشت کم ہونے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔
اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال مضر صحت ہوتا ہے اس لیے سنگھاڑے کا بھی مناسب استعمال کیا جانا چاہیے۔سنگھاڑے کے زیادہ استعمال سے گردے اور پتے میں پتھری بننے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کمزور مردوں کو سنگھاڑے کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ خواتین کے ماہانہ نظام کے لیے بھی مفید ہیں۔سنگھاڑے کے سفوف میں دودھ یا دہی ملا کر استعمال کرنے سے پیچش سے آرام آتا ہے۔ ان کے استعمال سے دانت چمکدار اور مسوڑھے صحت مند ہوتے ہیں۔
- See more at: http://urdudigest.pk/2013/01/oye-sanghare#sthash.cigN7QNs.dpuf
اس بارے میں اگر آپ کے پاس جامع معلومات ہوں اورشیئر کرنا چاہیں تو براہ کرم تبصرہ میں لکھ دیجئے۔
 سنگھاڑاSinghara by Hamariweb
 

6 comments:

  1. بہترین تحقیق نعیم بھائی

    ReplyDelete
  2. ہمارے یہاں عجیب و غریب اطوار کے شخص کو سنگھاڑے اور لہسن سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر:
    " ابے چل بے سنگھاڑے"
    " ابے ہٹا نا سنگھاڑے کو"
    " سالا پورا کا پورا لام لہسن ہے"
    بری صورتحال پیش آنے کے خدشے پر بھی لہسن کا استعمال تمثیلاً کیا جاتا ہےجیسے:
    "ابے جاوید! باؤنڈری پر بھی بھیج کسی کو ۔۔۔ یہ سنگھاڑے کی شکل والا لہسن لگادیگا۔۔۔میں بتلا رہا ہوں"

    ReplyDelete
  3. آپ نے سنگھاڑے کا تعارف تو بہت زبردست کرا دیا ہے ۔ یہ کھڑے پانی میں اگلتے ہیں ۔ اس بات پر حیرت ہوئی کہ آپ کے شہر میں نہیں ہوتے ۔ ہو سکتا ہے کہ برفانی علاقوں میں نہ ہوتے ہوں ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سرد علاقے میں جو اُگتے ہیں وہ چھوٹے اور خاکی رنگ کے ہوتے ہیں ۔ ان کا چھلکا بھی باریک ہوتا ہے اور بڑے والوں کی نسبت نرم ہوتے ہیں ۔

    ReplyDelete
  4. مصطفیٰ بھائی، آدھا کام آپ کے لئے چھوڑ رکھا ہے، اب یہ آپ کے ذمے ہے کہ اس کو اُگانے کا طریقہ، موسم، درکار رطوبت اور دیگر ضروری ہدایات آپ اپنی بلاگ پوسٹ میں تحریر کریں۔ میں نے تو صرف ادھر اُدھر سے اکٹھا کیا ہے، صحیح کام تو آپ کے لئے چھوڑا ہے۔
    ڈاکٹر جواد بھائی بہت شکریہ آپ نے میری تحریر کو چار چاند لگا دیئے۔ ہماری طرف تو نہ سنگھاڑے ہیں اور نہ ہی یہ اصطلاحات۔
    افتخار بھائی، ہماری طرف یہ پھل بالکل بھی ناپید ہے۔ کچھ زمانے پہلے مینگورہ سے باہر رحیم آباد پولیس سٹیشن کے پاس ایک تالاب تھا جہاں پر کنول کے پھول پودے تھے اور پھول کھلا کرتے تھے (جہاں اب قبضہ گروپ نے مارکیٹس بنائی ہیں) وہاں پر شاید کچھ ہوتامگر باقی کہیں بھی نہیں دیکھے حتیٰ کہ پشاور میں بھی اتنے عام نہیں ہے بلکہ ناپید ہیں۔

    ReplyDelete
  5. بہت خوب ۔۔۔ اس بار بازار جا کر ضرور کھاؤں گا ۔

    ReplyDelete