Tuesday 31 December 2013

December 31, 2013
2
پروفیسر سیف اللہ (مینگورہ سوات)۔۔۔۔۔۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی لشکریں افغانستان کی طرف جانے والی نیٹو سپلائی کی گاڑیوں کو روکنے پر مامور دکھائی جارہی ہیں۔ دن کے وقت تو یہ دھرنے شاید ہوں ، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ رات کو یہ لشکری اپنے گرم کمروں میں گھس جاتے ہوں گے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ ایک مذاق ہوگا۔ کیونکہ مال بردار گاڑیاں عموماً رات کو سفر کرتی ہیں۔ نیٹو سپلائی روکنے سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس کا علم دونوں پارٹیوں کے دانشوروں کو ہوگا، ہمارے خیال میں تو یہ اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے والی حرکت ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑی نیک نیتی کے ساتھ ایک شخص یا ایک گروہ ایک کام کرتا ہے ، لیکن کوتاہ بینی کی وجہ سے وہ اس فعل کے دوررس نتائج نہیں دیکھ پاتا۔ وہ تمام ممالک جو سمندر سے منسلک ہوں، اُن کو جو خشکی سے گھرے ہوں، سمندرتک رسائی کے لئے راستہ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔ اس وقت وطن عزیز نہ صرف مادی حملوں کی زد میں ہے ،بلکہ نظریاتی حملو ں کی بارش بھی ہے۔ امریکی اور مغربی دانشوروں نے تو خاکم بدہن پاکستان ک توڑنے کے اشارے کئے ہیں اور خاکم بدہن ٹوٹے ہوئے پاکستان کے نقشے بھی شائع کیے ہیں۔ روڈ بلاک کرنے سے پاکستان کے دشمن عناصر کو یہ موقع ثبوت کے ساتھ مل رہا ہ کہ وہ اپنے مذموم عزائم کو تقویت دیں ۔ وہ دنیا کو آسانی سے باور کراسکتے ہیں کہ دیکھو پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف بین الاقوامی ضابطوں کو درخور اعتناء نہیں سمجھتا بلکہ اپنے معاہدوں سے بھی انحراف کرتا ہے۔ ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ امریکہ نے ضرور اسلام آباد سے پاکستانی راستوں کے استعمال کی اجازت مفت یا قیمتاً حاصل کی ہوگی۔ پرویز مشرف کی اکثریتی منتخب حکومت کو ختم کرنے کا کوئی دوسرا عمدہ جواز ہمیں نظر نہیں آتا ، سوائے اس کے کہ وہ اُس کے ذریعے مغربی اور خصوصاً امریکی مفاد ات کے حصول کو ممکن بنوارہا تھا۔ اُردو کہاوت ہے : \"فلاں نے اتنی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں\"۔ امریکہ اور اُس کے اتحادی جب اتنے وسیع کام (مسلمانوں پر ہر طرف سے حملہ) کا ارادہ کررہے تھے، تو اُنہوں نے اس مہم کے ہر پہلو اور ہر خطرے پر غور کیا ہوگا اور ہر رکاوٹ کے ازالے کا بندوبست کیا ہوگا۔ اس لئے ہمارے خیال میں دھرنوں سے وہ ڈرنے والے لوگ نہ ہوں گے۔ پھر ہماری اپنی حالت ، دیانت اور امانت اور حب الوطنی کے حوالے سے زمانہ قدیم سے شرمناک ہے۔ پیسے لے کر قوم فروشی اور وطن فروشی ہمارے ہاں کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ خیر، \"سپلائی لائن جانے اور عمران، سراج جانیں\"۔ ہم تو اس دو کے ٹولے سے ملتمس ہیں کہ کام بھی کریں۔ عوام نے جماعت والوں کو اور نہ تحریک کو دھرنوں کے لئے ووٹ دیا ہے ۔ اپنے مسائل کے حل کے لئے اُنہوں نے اس دفعہ تحریک انصاف کا دامن تھاما ہے۔ ہمیں ایسا شک پڑتا ہے کہ عمران خان صاحب اپنے منتخب نمائندوں کی اہلیت اور کارکردگی سے مطمئن نہیں، اس لئے دھرنے جیسے حربوں کا استعمال اپنا وجود ثابت کرنے کے لئے ہے۔ یہاں سوات میں تو ہم مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ پہلے ہم نے \"جنتی\" لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا ، پھر \"قوم پرستوں \" کو اور اب کرپشن کے خلاف مجاہدین کو۔۔۔ \"کرپشن \"کیا ہے؟ اس کا تعین کوئی نہیں کرتا۔ صرف سرکاری افراد کی رشوت خوری اور کمیشن خوری کو کرپشن گردانا جاتا ہے۔ عوام کے ساتھ عوام ہی کے مختلف طبقات جو ظلم و زیادتیاں کرتے ہیں، اُن کی طرف حکمرانوں کی توجہ نہیں۔ سوات سے ایک نیک نام کمیشنڈ آفیسر کے تبادلے پر سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ اسے قانون کی حکمرانی کے نفاذ کی پاداش میں یہاں کی مارکیٹ مافیا نے ہٹا دیا ۔ شاید یہ درست بھی ہو۔ سوات میں یہی طریقہ گزشتہ چاردہائیوں سے جاری ہے کہ جو بھی افسر یہاں اچھا کام کرتے ہیں، پہلے اُن کو خوشامدیوں ، دوستیوں (جعلی)، تحفوں تحائفوں سے اور ان کے جونئیر سٹاف کو خریدنے یا دبانے سے اپنی مٹھی میں لینے کی کوشش ہوتی ہے۔ اگر وہ مخصوص مافیا کے ان نرغوں سے بچ جاتے ہیں، تو پھر اُں کے خلاف حکام بالا کو اپروچ ؍رسائی کی جاتی ہے اور اچھے افسر کو تبدیل کروانے میں مقامی منتخب افراد اور مارکیٹ مافیا کا ہاتھ اخبارات نے ذکر کیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے، تو یہ اچھی حکمرانی کے دعویداروں کے لئے غور کرنے کا مقام ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ سواتیوں، بونیر والوں اور دیر والوں جیسے شریف النفس لوگ کس طرح اور کیوں \"طالبان\"وغیرہ کے ساتھی بن گئے۔ بڑی وجہ یہی ہے کہ ایک طرف تو ان علاقوں کو آئین اور قوانین سے محروم رکھا گیا ہے اور دوسری طرف یہاں سے اچھے سرکاری ملازمین کو بھگا دیا جاتا ہے۔ ہمیں خوف ہے کہ اس علاقے کے عوام کو مزید دبانے سے ایسے حالات پیدا ہوجائیں گے جن سے آج کل کراچی کے سیٹھوں اور سرداروں کو سامنا ہے۔
ہمیں فی الوقت تحریک اانصاف، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ وطن عزیز کے عمرانی نقشے پر ماہرانہ نظر ڈال کر عوام کو بھیڑیوں کے پنجوں سے آزاد کروائیں۔ دھرنے ورنے جیسی حرکتیں وقت ضائع کررہی ہیں۔ عمران خان صاحب اور سراج الحق صاحب موثر ترین محنت کریں کہ پاٹا اور فاٹا کی حیثیتین ختم ہوں اور یہ علاقے باقی ماندہ ملک کے حصے بن جائیں۔ قانون سب کے لئے کے نعرے کو سچ کروائیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک ہی ملک ، ایک ہی کرنسی ، ایک ہی نظام تعلیم ، ایک ہی حکومتی ادارے اور ایک ہی انفراسٹرکچر لیکن عوام کے ایک حلقے کو قانون اور انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ دنیا ہم پر ویسے تو نہیں ہنستی۔
ہمارے صوبے میں بے روزگاری دوسرے صوبوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ زراعت ہمارے صوبے میں زوال کے آخری درجے پر ہے۔ صنعت کا تو اس صوبے میں نام ونشان ہی نہیں۔ معدنیات اور جنگلات قابل رحم سطح تک تبا ہ ہیں۔ مارکیٹ مافیے کی یہ حالت ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنے مقاصد حاصل کرسکتا ہے۔ دھرنوں کی جگہ اس طرف آنا ضروری ہے۔ سوات میں سنجیدہ حلقے اب موجودہ ممبران اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد اور ریفرینڈم کی تحاریک چلانے کاذکر کررہے ہیں۔ اگر ان ممبران کی بے حسی کی یہی حالت رہی تو شاید عوام کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ پھر صوبے میں گورنر راج کی بات بھی ہوسکتی ہے۔ سراج الحق صاحب وزیر خزانہ ہیں، بے شمار مشکلات اور کرپشن بجٹ کے معاملات میں اصلاح؍اصلاحات سے کم ہوسکتے ہیں۔ لیکن اُن کی طرف سے بھی کوئی حرکت اس موضوع پر پڑھنے سننے یا دیکھنے میں نہیں آتی۔ بلدیات کے وزیر صاحب کے لئے ضروری ہے کہ وہ پرویزی دور کی ضلعی حکومتوں کے قواعد پر ماہرانہ تحقیق کروائیں اور اُن خرابیوں کو ابھی سے دور کروائیں، جو بلدیاتی انتخابات کے بعد پیش آئیں گی۔
سراج الحق صاحب یہ تو کرسکتے ہیں کہ بجٹ کی خرابیوں کو عوام اور خواص سے معلوم کرکے اُن کو اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے دور کروائیں۔ اس مقصد کے لئے ایک سیکشن آفیسر لیول کا افسر \"فوکل پرسن\" قرار دیا جائے اور عوام وخواص سے تجاویز حاصل کی جائیں۔ اس طرح سراج صاحب پانچ سالہ منصوبے کو پھر سے متعارف کروائیں اور ابھی سے اُس پر کام شروع کروائیں تاکہ اگلے بجٹ کے ساتھ ساتھ وہ بھی نافذ ہو۔ بلدیات کے وزیر صاحب محکمہ خزانہ کو قائل کردیں کہ وہ پشاور میں بیٹھ کر بلدیاتی بجٹ کی تقسیم کا ڈیکٹیٹرانہ طریقہ چھوڑ دیں، لیکن بجٹ کے استعمال کو منتخب ناظمین (متوقع) کی مرضی پر چھوڑ دیں۔ سرکاری اسکولوں میں مفت کتب کی فراہمی تعلیم میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کی جگہ کتب کو رعایتی قیمتوں (Subsidized Cost) پر مارکیٹ میں عام کروادیں تاکہ ہر بچہ اُن کو حاصل کرسکے۔\"کام کریں، دھرنے چھوڑ دیں\'۔

2 comments:

  1. آپ کا خیال درست ہے ۔ عملی طور پر تو تحریکِ انصاف کے پاس انصاف نام کے وصف کی بجائے سستی شہرت کی ہوس نظر آتی ہے لیکن سمجھ میں نہیں نآتا کہ جماعتِ اسلامی کو کیا ہو گیا ہے

    ReplyDelete
  2. دھرنے چھوڑ دیں

    ReplyDelete